Alain Delon, Seductive Star of European Cinema, Dies at 88

Image
 Dubbed "the male Brigitte Bardot," the French actor starred in 'The Leopard,' 'Le Samouraï,' 'The Red Circle' and as Tom Ripley in 'Purple Noon.' Alain Delon, the dark and dashing leading man from France who starred in some of the greatest European films of the 1960s and ’70s, has died. He was 88. “Alain Fabien, Anouchka, Anthony, as well as (his dog) Loubo, are deeply saddened to announce the passing of their father. He passed away peacefully in his home in Douchy, surrounded by his three children and his family,”  a statement from the family released to AFP news agency said. With a filmography boasting such titles as Luchino Visconti’s Rocco and His Brothers (1960) and The Leopard (1963), René Clément’s Purple Noon (1960), Michelangelo Antonioni’s The Eclipse (1962), Joseph Losey’s Mr. Klein (1976) and Jean-Pierre Melville’s Le Samouraï (1967) and The Red Circle (1970), Delon graced several art ho...

تالاب پر عورتوں کو بے لباس کرنے والا کون ہے? حقیقت جانیں:

 

قصور کے قریب ایک جالعی بابا تھا جو خواتین کو برہنہ کر کے گندے جوہر میں نہلواتا تھا۔
ان کے پورے بدن پر ہاتھ پھیرتا تھا اور کہتا تھا تمہیں شفا مل جائے گی۔
اور اس نے اپنے اڈے کے قریب ایک جوہر بنا رکھا تھا جہاں یہ اوپن کو نہلواتا تھا اور کہتا تھا کہ یہاں سے تمہیں شفا ملے گی



اور جب ٹیم سرعام نے وہاں کا جائزہ لیا تو دیکھا کہ اس کے قریب سے کو خواتین کے لباس موجود تھے
اپ لوگوں کی جہالت کا اندازہ کیجیے۔۔۔۔

اور جب ٹیم سر عام اس کو پکڑنے کے ہی تو وہاں اس کے سینکڑوں مرید سینکڑوں عقیدت مند موجود تھے جو اس کے حق میں بول رہے تھے۔

لیکن پھربعد میں جب انہیں بھی یہ حقیقت پتہ چلی تو انہیں بھی اندازہ ہوا کہ یہ تو بڑا بدبخت ہے جو خواتین کے ساتھ ایسا کرتا ہے بچوں کی زندگیوں سے کھیلتا ہے۔بچوں کو ٹانگوں سے پکڑ کے گھماتا ہے۔

جب اس بابا کو گرفتار کر کے پولیس کے پاس لے جایا گیا تو قصور کے ڈی ایس پی نے اس سے کلمہ سننا چاہا لیکن افسوس اس سے پہلا کلمہ بھی نہیں ایا۔
اسی طرح گجرانوالہ میں ایک مزار کے قریب طلاق بنایا گیا تھا جہاں سینکڑوں مرد اور خواتین نہانے اتے تھے اور وہاں کی مٹی کو اپنے جسم پر ملتے تھے تاکہ انہیں شفا ملے۔اور جب ان کا گرفتار کرنے گئے ۔

تو ادھر کے عقیدت مند ہونے دعویٰ  کیا کہ "یہ تلاب کبھی بند نہیں ہو سکتا یہ مٹی کا بھی ختم نہیں ہو سکتی۔"
ادھر کا ایک مرید کا کہنا یہ بھی تھا کہ "اگر یہ تلاب بند ہو گیا تو مجھے سڑک پر جوتے مارے جائیں"
کیا لوگ اس قدر بھی جاہل ہو سکتے ہیں جو دین کو نہیں سمجھتے نہیں کو سیکھنے کی بجائے ان جالعی فراڈیوں کے پیچھے لگ جاتے ہیں
اپ سب سے گزارش ہے کہ خدا کا واسطہ ایسے جالعی اور فراڈیوں سے بچیں۔جو اپ کے خواتین کی عزتوں کے ساتھ کھیل 
رہے ہوں۔

Popular posts from this blog

سسٹرولوجی کی اقرا کنول یوٹیوب پر کیسے کامیاب ہوئی ؟جانیے:

جفا ڈرامہ حساس، معاشرتی مسائل کو اجاگر کرتا ہے